میرے قلم سے عنوان ۔مذہبی ٹھیکیدارانتشار کے زمہ دار تحریر بشارت علی بھٹی

عنوان ۔مذہبی ٹھیکیدارانتشار کے زمہ دار تحریر بشارت علی بھٹی basharatalistj99@gmail.com ہم ہمیشہ اس بات کا کھلے عام پرچار کرتے ہیں کہ مذھب کو بدنام کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ مذھب کے ٹھیکیداروں کا ہے۔ یہ وہ تمام کام کرتے ہیں جس کا دین سے دور پار کا بھی کوئی واسطہ نہیں ۔ آپ…

دعوے عزت داری نہیں ۔ تحریر منیر چوھدری

کبھی باتوں میں تاثیرہواکرتی تھی،،سمجھنے والے کم،سننے والوں اورسردھننے والوں کی کثرت ہواکرتی تھی۔ پھرایسادوربھی آیاکہ باتوں کی جگہ ” گھاتوں“ نے لے لی،غیرطبعی اموات،بے سروپا مقدمات، چوری ڈاکے وغیرہ ہی طاقت کی دلیل سمجھے جانے لگے۔تعمیرکی آڑمیں ”تخریب“اورخدمت کے پہناوے میں مفادلپٹارہا۔ سیاست کرنے کیلئے انسانیت سے خالی دامن زیادہ تر”بامراد“ اورکامیاب ٹھہرے!! وقت…

عنوان۔صحافت کو محکمے کمزور کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟

ہمارے معاشرہ میں صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جو ہر اچھائی برائی کو سامنے لاتا ہے اگر محکموں میں کرپشن جیسی لعنت بلکل نہیں ہے تو پھر محکموں میں صحافیوں کے جانے پر پابندی بلکل نہ ہو بلکہ فُل کوریج کرنے کی خود آفر کریں اور جب صحافی کو روکا جاتا ہے کہ آپ یہاں…

ھر خوشی اپنے پس منظر میں دُکھ کی کسک چھوڑ جاتی ھے

انسان کو اپنی جگہ پہ لگا ھوا دانت چھوٹا سا محسوس ھوتا ھے مگر جب وہ دانت گرتا ھے تو دو دانتوں جیسا بڑا خلاء چھوڑ جاتا ھے اور انسان وہاں انگلی رکھ رکھ کر تصدیق کرتا ھے کہ ”ہیں!! واقعی ایک دانت گِرا ھے؟“ کچھ رشتے جب پاس ھوتے ھیں تو اتنے اھم نہیں…

عنوان۔ھر خوشی اپنے پس منظر میں دُکھ کی کسک چھوڑ جاتی ھے

انسان کو اپنی جگہ پہ لگا ھوا دانت چھوٹا سا محسوس ھوتا ھے مگر جب وہ دانت گرتا ھے تو دو دانتوں جیسا بڑا خلاء چھوڑ جاتا ھے اور انسان وہاں انگلی رکھ رکھ کر تصدیق کرتا ھے کہ ”ہیں!! واقعی ایک دانت گِرا ھے؟“ کچھ رشتے جب پاس ھوتے ھیں تو اتنے اھم نہیں…

عنوان۔ پاپی کون ; تحریر۔بشارت علی بھٹی

میرےقلم سے اب اگر کرپشن کی بات چل ہی نکلی ہے ان پاپی تھانیداروں کی تو اسکو مزید آگے بڑھاتے ہیں پولیس کی dictionary میں ایک عالمگیر لفظ ہے جسے کہتے ہیں Manage کرنا سر تھانہ کی گاڑی خراب ہے؟ او بھئ manage کرلو سر فرنٹ ڈیسک کا آفس تیار کروانا ہے؟ او manage کرو…

” ایسے میں وردیاں نہیں نظام بدلناہو گا “

ویسے تو” یوٹرن ” کی جگہ اب ” اوٹرن” نے لی ہےمگرحکمران جماعت اوراس کی قیادت کے بلندوبانگ دعوے کہ نظام بدلے بغیرملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔اداروں کوسیاسی ”آلائشوں“ سے پاک کرنے کابھی وعدہ تھا،کونساوعدہ ایفاہوا؟ کونسادعویٰ پیکرمیں ڈھلا؟۔۔عیب کوہنرکہنا ہمارااجتماعی مزاج بن گیاہے،جس سیاسی جماعت سے کوئی منسلک ہے اس کی کوتاہیوں کوسچائیوں کے…

چہرے وہی۔۔ نظام وہی !!!

وعدوں،دعوؤں کی دھوپ چھاؤں میں ایک نسل راہی ملک عدم ہوئی، دوسری لرزتے بدن سے نوحہ گراورتیسری نسل تبدیلی کی’ بانسری‘ پر تھرک رہی ہے۔ کسی کوحقیقت کاادراک ہے نہ سمجھنے ، سوچنے کی اوقات۔۔ ”گالی بریگیڈ“ایک دوسرے کی درگت بنارہے ہیں،اپوزیشن جماعتیں حکمرانوں کی نااہلی جبکہ تبدیلی والے ’نالائقی‘ کی برکتیں گنوارہے ہیں۔۔جسم اورروح…