کوئی ایک بھی رہا ہم میں سے تو اس پرچم کو گرنے نہیں دیں گے۔راۓ غضنفرعلی کھرل چئیرمین آزادمیڈیا گروپ حافظ آباد

حافظ آباد(فیض احمد تتلہ بیوروچیف نیوزورلڈپاکستان)آپکی سوچ مثبت ہے مگر جب بھی کھبی ایسے واقعیات رونما ہوتے ہیں وہ ملکوں کے ہوں پارٹیوں کے ہوں اداروں یا کسی بھی کمیونٹی میں اختلافات شدد اختیار کرتے ہوں تو اس وقت کے حاکم .پارٹی سربراہ.منصف .یا وہ افسران جن کو اللہ نے طاقت دی ہو حق پر عمل کرانے کی ایسی شخصیات اپنا کردار ادا کرتے ہیں فریقین کے موقف سن کر جوٹھ اور سچ کا فیصلہ کرتے ہیں انکے انصاف کا بول بالا کرنے سے.خود ہی اختلافات ختم ہوجاتے ہیں آزاد میڈیا گروپ کا بنیادی مقصد کیا تھا کوئی اقددار کا لالچ ہر گز نہیں تھا.. بلکہ تمام گروپوں کے سربراہان نے اللہ کی کتاب پر ہاتھ رکھ کر 7سال کے لیے حلف تحریر کیا تھا جو تین سال بعد ہی 2018کے الیکشن میں چند دوستوں نے میونسپل کمیٹی کے دو دو ٹھیکے لیکر حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امیدوار نامزد کر دیا بالاخر ان کے فیصلے کے سامنے سب نے گٹنے ٹیک دئیے تو میں نے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر تے ہوئے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا چار دوستوں نے میرے ساتھ لبیک کہااور پانچ ممبران پر مشتمعل آزاد میڈیا گروپ وجود میں آیا اس وقت 4 رکنی جاوید اسد گروپ نے بھی حلف سے مکر جانے والوں کی مخالفت میں جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر میرے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا ہمیں 9ووٹوں کیساتھ بری طرح شکست ہوئی آزاد میڈیا گروپ کامنشور کیا تھا. اس وقت کے چیرمین کو درخواستیں دی کہ آئین کے مطابق فیصلے کیے جائیں اس آئین کے مطابق جو آپ نے خود لکھا ہے… 1 وہ ممبران جو آئین کے مطابق درخواستیں جمع کروائے بغیر کمیٹی کے روبرو ٹیسٹ اور انٹر وویو دیے بغیر ممبر بنائے گئے انکو فارغ کریں 2 جن ممبران کی تعلیم میٹرک نہیں آئین کے مطابق وہ ممبر شپ کے اہل نہیں انکو فارغ کیا جائے3 سرکاری ملازمین آئین کے مطابق وہ صحافت نہیں کر سکتا انکو فارغ کریں… 4 وہ ممبران جو نان ایکٹو ہیں جن کے پاس کوئی ادارہ نہیں صحافت سے دور تک تعلق نہیں صرف زاتی مفاد یا ووٹ کی خاطر ممبر بنائیں گئے آپکے لکھے آئین کیمطابق وہ ممبر نہیں بن سکتے انکو فارغ کیا جائے..5 ٹھیکیدار جو اپنے بل پاس کروانے کے لیے ممبر بنے انکو فارغ کیا جائے 6 آئین کیمطابق جو ممبر تین اجلاس میں شرکت نہیں کرتا وہ فارغ تصور ہوگا مگر ہمارے ایسے ممبران ہیں جو سال میں صرف الیکشن دن آتے ہیں انکو فارغ کیا جائے.7 یہ ڈسٹرکٹ پریس کلب ہے ناکہ صرف سٹی پریس کلب ہے پورے ڈسٹرکٹ کے صحافیوں کو نمائندگی دیں صرف سٹی تک محدود نا رکھیں8ان سب کو فارغ کرو جو اپنےباپ بھائی بہنوئی داماد اور اپنے ملازمین کو جو صحافت سے واقف نہیں صرف ووٹ کی خاطر بنائے گئے کو فارغ کرو….. ہماری کسی نے ایک نا سنی میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو درخواستیں دیں انکوائریاں کروائیں 16 ممبران جو سرکاری ملازم یا عطائی تھے کو نوٹس جاری کیے گئے کہ نوکری رکھیں یا ممبر شپ ڈپٹی کمشنر کے حکم پر آج تک عملدرامد نہیں ہوسکا بلکہ سیاسی شفارشیں انکو پچانے میں کامیاب رہیں ہمارے سیاسی رہنما ہی ایسے غلط لوگوں کو بچانے کے لیے اپنا زور لگائیں گے تو کیا ظاہر ہوگا چور کو بچانے والا خود کیا کہلائے گا الٹا جواب میں مزید38 ارکان کو چیرمین الیکشن بورڈ نے پریس کلب کی ممبر شپ سے نواز دیا چیرمین الیکشن بورڈ کو صرف الیکشن کروانے کے علاوہ اور کسی کام کی اجازت نہیں ہوتی آئین کو جنگل کا قانون سمجھتے ہوئے 38 میں سے تقریبا 25 انڈر میٹرک ٹھیکیدار اور نان ایکٹو ہیں….. آزاد گروپ کا ہمیشہ ایک ہی نعرہ رہا ہے کہ آئین کے مطابق فیصلے کرتے ہوئے پریس کلب میں وہی ممبران کو رہنے دیا جائے جوآئین پر اترتے ہیں باقی سب فارغ کریں چاہے چیرمین آزاد گروپ ہی کیوں نا ہو یہ بھی کہا کہ آپ آئین پر عمل کریں آزاد گروپ لکھ دیے گا کہ کبھی کوئی عہدہ نہیں مانگے گے مگر ہماری درخواستوں پر مزاق اڑائے گئے تنقید کی گئی آئین کے رکھوالے کہا جاتا رہا.. جنھوں نے لکھا وہ بھول گئے جنھوں پڑا بھی نا تھا وہ عملدرامد کرا رہے ہیں2019 کا الیکشن آئین کمطابق کروایا وہ بھی انتظامیاں کی موجودگی میں ضلع کے پانچ پریس کلب کے عہدداروں کو نمائندگی دی بلامقابلہ الیکشن جیتے جب باڈی رجسٹریشن کے لیے درخواستیں دی تو انکوائریاں ہوئیں جو ہمارے حق میں تھیں پریس کلب کے قیام سے لیکر اب تک کا ریکارڈ ہمارے پاس تھا ہم فارغ جنکے پاس ایک رجسٹر بھی نہیں تھا ورجسٹرڈ ہوئے کیونکہ بد قسمتی سے کوئی ایم پی اے یا ایم این اے کی سپورٹ نا تھی سچے ثابت ہوکر بھی سیاست دانوں کا پریشر برداشت نا کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر صاحب نے انصاف کی دھیجاں اڑا دی جن ممبران کو خود فارغ کرنے کا نوٹس جاری کر رہیں انکی رجسٹریشن کر دی (شاہوں کی عدالت میں انصاف کی توقع تو نہیں آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتا ہوں
مت دلا عدل کا احساس اے عدیل قتل ہو جاتے ہیں زنجیر ہلانے والے)آپ سب جانتے ہیں کہ ورکر جرنلیسٹ کس گروپ کے ہیں ادارے کن کے پاس ہیں الحمدوللہ 75 بڑے ادارے آزاد گروپ کے پاس ہیں سٹی میں اور ضلع بھر کے ملا کر تقریبا 120 کے قریب بڑے ادارے رکھنے والا آزاد گروپ جعلی صحافی کہلا رہا ہے قبضہ گروپ کہلا رہا ہے کھبی کوئی الزام تو کھبی کوئی الزام.بتائیں ایسے افسران ایسے حاکم یا رہنماؤں کی موجودگی میں اختلافات ختم ہوجانا ممکن ہے کھبی بھی نہیں جب انصاف کا جنازہ نکلتا ہے حق والوں کا ساتھ کوئی نا دے جھوٹ کو طاقت سے سچ میں بدلا جائے پھر بغاوت ہوتی ہے پھر امن نہیں رہتا صحافت آزاد پیشہ ہے اسے غلام نہیں بنایا جا سکتا چند دن سے جو کچھ صحافیوں کیساتھ ہورہا ہے اسکی مثال نہیں ملتی سینئر جرنلیسٹ کو گندی گالیاں دی گئی بزرگ صحافیوں کو قتل کی دہمکیاں دی گئی صحافیوں کے گھروں پر حملے کیے گئے کیا ایسا کرنے سے وہ ممکن ہے جو آپ چاہتے ہیں ہر گز نہیں ایسے ہتھکنڈوں سے نفرتیں جنم لیتی ہیں آوازیں دب نہیں سکتیں بلکہ اور بھی بلند ہوتی ہیں سیاسی پارٹیوں کے بزرگ رہنما ہمارے لیے قابل عزت ہوتے ہیں اور ہم ان کو عزت دیتے ہیں انکا بھی حق بنتا ہے ایسا کردار پیشں کریں ایسا اخلاق اپنائیں کے دل جیتے جائیں کسی کا دل جیتنا ہی اصل زندگی ہے ہمارے سیاسی رہنما کیا پیغام دے رہے ہیں آنے والی نسلوں کو قلمقاروں پر بندوق تان لینا کہا کا دستور ہے ان فقیروں کی پروردیگار بہت سنتا ہے اسکی لاٹھی بے آواز ہے آپ نہیں جانتے( یہ کوئی عام نہیں یہ اس کریم کےمظلوم بندے ہیں ان کے ہر ظلم کا بدلہ خود اس نے زمہ لے رکھا ہے). صحافت کو سیاست سے دور رکھنے کا پہلا قدم خود میں نے اٹھایا اور اپنی میونسپل کمیٹی کے ممبر اور سیاسی عہدوں سے استعفیٰ دیکر صحافت کو ہی ترجیح دینے کا فیصلہ کیا مگر خود کو صحافت کے امیر کہلانے والے بزدل لیڈران کو شرم نہیں آتی جو جوٹھ کا سہارا لیکر سیاستدانوں کو اسعمال کرتے ہیں اپنے فیصلے سیاستدانوں سے ان کی مرضی کے مطابق کرواتے ہیں خود تو ان کو لکھنا نہیں آتا مگر جن سے لکھواتے ہیں ان کا قلم فروخت کرتے ہیں ( ہمارااپنے پروردیگار کے اوپر یقین ہے کہ جس نے اپنی پاک کتاب کے حلف سے پھرنے والوں کے سامنے جس طرح انکار کرنے کی ہمت دےکر کھڑا کیا تھا وہ اپنے محبوب کے صدقے گرنے نہیں دے گا جب تک پریس کلب سے وہ لوگ جو اسکے اہل نہیں انکو نکلوا نہیں لیتے جو اہل ہیں ان کے سپرد کر نہیں لیتے اس وقت تک جدوجہد کرتے رہیں گے اور منزل دور نہیں جیت انشااللہ حق والوں کی ہے جو پریس کلب کی آڑ میں دو نمبر پانی فروخت کرتے ہیں جو دو نمبر جوس بناتے ہیں جو دو نمبر سگریٹ بناتے ہیں جو جوا کرواتے ہیں جو مظلوموں کو بلیک میل کر کے پیسے چھینتے ہیں جو اداروں کے افسران سے ملکر کرپشن کرواتے ہیں جو پریس کلب کی بجلی گیس فروخت کرتے ہیں جو ہر ماہ اداروں منتھلیاں لیتے ہیں ایسے لوگوں کی صحافت کیا ہے پریس کلب کے فنڈ خورد برد کرنے والے خاک مقابلہ کریں گے ……..تاریخ گواہ ہے اللہ تعالی انکی مدد فرماتا ہے جو اللہ کی مدد سے اپنے پاوں پر کھڑے رہتے ہیں میں سلام پیش کرتا ہوں آزاد گروپ کے ہر ممبر کو جنھوں نے اتنے ظلم سہہ کر بھی حق کا نعرہ بلند رکھا اور آئندہ بھی ہر ظلم سہنے کے لیے پر عزم ہیں ( آزاد گروپ کا کارواں اپنے نیک مقاصدکے لیے رواں دواں رہے گاہمارا قلم اللہ کی مدد سے سچ لکھتا رہے گا نا ظلم کا ڈر نا جبر کا ڈر توکل جن کا ہو اپنے خدا پر سر جھکنا ان کا ممکن نہیں (پہلی تقریر میں کہا تھا اکیلا بھی رہا الیکشن لڑوں گا وقت نے ثابت کیا آج تو الحمدوللہ گروپ میں کئی غضنفر ہیں آج بھی وہی نعرہ ہےکوئی ایک بھی رہا ہم میں سے اس پرچم کو گرنے نہیں دے گا..آزاد گروپ کا پکا ایمان حق سچ پر ہونگے تو ہمارا رب رحمان……………محبتوں کا سفیر آزاد میڈیا گروپ ڈسٹرکٹ پریس کلب..

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)