پنڈی بھٹیاں بچے بھٹوں کا ایندھن بننے لگے چائلڈپروٹیکشن بیوروفرضی دعوؤں تک محدود

پنڈی بھٹیاں(ثقلین علی تحصیل رپورٹرنیوزورلڈپاکستان)تفصیلات کے مطابق بچے بھٹوں کا ایندھن بننے لگے چائلڈپروٹیکشن بیوروفرضی دعوؤں تک محدود والدین چند ٹکوں کے لالچ کی خاطر اپنے لخت جگروں کو مالکان کے حوالے کر رہے ہیں کمسن بچے تعلیم کی بجائے جبری مشقت پر مجبور پنڈی بھٹیاں شہر اور گردونواح چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی صفر بچے چائے کے ہوٹلوں بیکریوں, ورکشاپوں,اور بھٹوں کا ایندھن بننے لگے چائلڈ ایکٹ کی خلاف ورزیاں کھلم کھلا جاری ہیں جو کہ کے موجودہ حکومت اور محکمہ چائلڈ پروٹیکشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں پنڈی بھٹیاں شہر ہو یا گردونواح ہر جگہ موٹرسائیکل ورکشاپس, بھٹوں بیکریوں, ہوٹلوں, جوس کارنرز, اور بائی پاس پر, سکھلائی کی آڑ میں بچوں سے جبری مشقت کروائی جا رہی ہے وہ معصوم بچے جنکے ہاتھوں میں کتابیں اور قلم ہونا چاہیے تھا انکےہاتھوں میں گارڑیاں واش کرنے پائپ لوہے کے اوزار, بیکریوں کی بھٹی پر بسکٹ پکانے کے اوزار, کچی اینٹیں بنانے والے اوزار, ہوٹلز میں برتن دھونے اور ٹیبل صاف کرنے جیسے کام لیئے جا رہے ہیں یہاں تک کہ غلطی ہونے پر انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے والدین چند ٹکوں کی خاطر اپنے لخت جگروں کو بیکریوں, بھٹہ مالکان, ورکشاپس, اور ہوٹلز ملکان کے حوالے کر کے اپنے ہی بچوں کے قیمتی مستقبل کو نہ صرف تاریخ کر رہے ہیں بلکہ اپنے بڑھاپے کو بھی غربت پسماندگی اور لاچاری کی جانب دھکیل رہے ہیں جبکہ محکمہ چائلڈ پروٹیکشن کے افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سب ٹھیک کی رپورٹ ارسال کرنے میں مصرف ہیں عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب ڈی سی حافظ آباد اسسٹنٹ کمشنر پنڈی بھٹیاں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)