ایف بی آر نے سیلز ٹیکس سرکلر جاری کر دیا

اسلام آباد(راحیلہ راجہ سے)سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی شق 23 میں ترمیم کی گئی ہے۔
فنانس ایکٹ 2019 کے تحت کچھ محدود ٹرانزیکشنز پر قومی شناختی کارڈ نمبر کی ضرورت ہو گی۔
41 ہزار 484 ایسے سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد ہیں جو ریٹرنز کے ساتھ اصل ٹیکس ادا کر رہے ہیں
اگر سیلز ٹیکس رجسٹرڈ فرد سے خریداری کی جاتی تو خریدار کا شناختی کارڈ نمبر مخصوص صورت میں فراہم کیا جائے گا۔
شناختی کارڈ نمبر فراہم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ خریدار کو سیلز ٹیکس قانون کے تحت رجسٹرڈ ہونا پڑے گا
بلکہ غیر رجسٹرڈ فرد کو سیلز کی جاسکتی ہے
قانون 50ہزارسےکم خریداری پرشناختی کارڈکی دستیابی کولازمی قرارنہیں دیتا۔
کاروبار کی ترویج کے لئے قانون میں لچک موجود ہے
چھوٹے اور درمیانے درجے کے ریٹیلرز پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا
قانون کا اطلاق بزنس ٹو بزنس ٹرانزیکشنز پر ہوتا ہے
خاتون خریدار اپنے شوہر یا والد کا شناختی کارڈ استعمال کرسکےگی۔
اگر بعد میں یہ ثابت ہوتا کہ خریدار کا شناختی کارڈ نمبر درست نہیں تو نقصان کی ذمہ داری یا جرمانہ سیلر نے خلاف نہیں گا
لیکن یہ صرف اس صورت میں ہوگا کہ یہ فروخت نیک نیتی پر مبنی ہو۔

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)