عوام کو ان کے دہلیز پر خدمات کی فراہمی ہمارا عزم ہے،چیف کمشنرچترال

چترال(گل حماد فاروقی)چترال کے خوبصورت وادی گرم چشمہ میں خدمات تک رسائی یعنی Right to Service commission نے عوام کی آگاہی مہم کا آغاز کردیا۔اس موقع پر چیف کمشنر رائٹ ٹو سروس کمیشن مشتاق جدون مہمان حصوصی تھے۔ آگاہی مہم کے تقریب سے اظہار حیال کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر منیر احمد نے شرکا ء کوبتایا کہ اب ٹی ایم اے آفس چترال میں بھی خدمات تک رسائی کا دفتر دو سال پہلے کھل چکا ہے اور جس کسی کو بھی کسی قسم کی شکایت ہو وہ ان کے دفتر تک رجود کر سکتے ہیں۔
چیف کمشنر مشتاق جدون نے کہا کہ صوبے کے اندر چوبیس محکمے ایسے ہیں جن میں RTS کمیشن مداحلت کرسکتے ہیں بلکہ ابھی اچھی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم نے بعض وفاقی محکمے بھی ان کے حوالہ کیا ہیں جن سے یہ پوچھ گچ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خدمات تک رسائی کمیشن کی قیام کا بنیادی مقصد عوام کو سستا سروس فراہم کرنا ہے تاکہ وہ رشوت دینے سے بچ جائے اور ان کو بغیر کسی سفارش یا پیسے دینے کی وہ خدمات مل سکے۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان بھی کیا کہ وہ چترال کے پسماندہ علاقوں جیسے گرم چشمہ میں ایک فیسلیٹیشن سنٹر قائم کرے گا جہاں عوام کی صوبائی محکموں کے حلاف شکایات وصول کیا جائے گا۔
آغاخان لوکل کونسل نامدار کے اعزازی سیکرٹری ولی محمد استاد نے کہا کہ ان کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ چترال میں بھی کوئی رائٹ ٹو سروس کمیشن کا دفتر کھل چکا ہے خیر دیر آئد درست آید۔ مگر یہاں نہ تو فور جی نیٹ ہے نہ برانڈ بینڈ تو غریب عوام کیسے اپنی شکایات آپ تک پہنچائیں گے۔ اس پر چیف کمشنر نے کہا کہ جو ویلیج کونسل سطح پر سیکرٹری ہوتے ہیں ان کے ذریعے یہ درخواستیں جمع ہوکر ان کے دفتر پہنچایا جائے گا۔
عوام نے شکایت کی کہ گرم چشمہ کا سڑک موت کا کنواں سے کم نہیں ہے اور دریا پر جو پل تعمیر کیا گیا ہے وہ بھی نہایت حستہ حالی کا شکار ہے یہاں سے کروڑوں روپے کا آلو سالانہ باہر جاتا ہے مگر اس پل پر جب ٹرک گزرتا ہے تو اسے حالی کرکے یہاں سے گزارا جاتا ہے۔
رحمت خان نے کہا کہ یہاں اکثر گھروں سے گھٹر لائن کا گندا پانی سڑک پر بہتا ہے جس سے تعفن پھیلنے کے ساتھ ساتھ کپڑے بھی گند ا ہوتے۔ اس کے بعد چیف کمشنر نے ڈپٹی کمشنر لوور چترال کے دفتر میں بھی لائن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہوں سے اجلاس کرکے ان پر زور دیا کہ وہ عوام کے مسائل فوراً حل کرے۔ جس محکمے کے حلاف شکایت ملا کہ وہ عوام کو تنگ کررہے ہیں تو ان کے حلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران محکمہ زکوۃ کے نمائندہ نے انکشاف کیا کہ ایک سال سے زکات کا فنڈ بند ہے جس کی وجہ سے بہت سارے نادار اور غریب لوگ مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)