میرے قلم سے عنوان ۔مذہبی ٹھیکیدارانتشار کے زمہ دار تحریر بشارت علی بھٹی

عنوان ۔مذہبی ٹھیکیدارانتشار کے زمہ دار
تحریر
بشارت علی بھٹی
basharatalistj99@gmail.com
ہم ہمیشہ اس بات کا کھلے عام پرچار کرتے ہیں کہ مذھب کو بدنام کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ مذھب کے ٹھیکیداروں کا ہے۔
یہ وہ تمام کام کرتے ہیں جس کا دین سے دور پار کا بھی کوئی واسطہ نہیں ۔
آپ دیکھ لیں کئی ایک مذہبی اداروں پر خاندانی اجارہ داری قائم کرنے کی ہمیشہ سےکوشش جاری و ساری ہے۔ اگر ان اداروں کی بہتری مطلوب ہو تو اس کو بہتر کرنے کے بے شمار طریقے وضع کیئے جا سکتے ہیں ۔
ہمارے معاشرے میں تمام تفریق اور تقسیم کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس کے پیچھے یہی مذھب کے نام نہاد ٹھیکیدار نظر آئیں گے۔
وجوہات پر غور کریں گے تو واضح نظر آئے گا کہ اصل وجہ مال و دولت، شہرت اور آسائش کی زندگی کی خواہش ہے۔ ان کا کوئی خاص قصور نہیں کیونکہ ہم نے جان بوجھ کر یہ مخصوص طبقہ اپنے معاشرے میں پیدا کیا ہے۔ ان کی اکثریت زکوٰاة اور خیرات پہ پلتی ہے۔ اصل مسئلہ یہیں سے شروع ہو جاتا ہے۔
وسائل کی غلط تقسیم اور کمی اس استحصالی نظام کی پیداوار ہے ۔ اس غلط تقسیم کی وجہ سے دولت اور اسباب چند ہاتھوں میں جمع ہو جاتے ہیں ۔
ہم نے ایک مخصوص طبقہ پیدا کیا اور اس کو مولوی کا نام دے دیا۔ یہ پسا ہوا طبقہ جب دیکھتا ہے کہ مال کی فراوانی اور اس کو اکٹھا کرنے کا آ سان طریقہ مذھب کو استعمال کر کے پورا کیا جا سکتا ہے تو وہ اپنی مذھبی اجارہ داری کو قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے لوگوں کو فرقوں اور فقہوں میں بانٹتا ہے۔
یہاں جو سب سے تکلیف دہ بات ہے وہ یہ ہے کہ انہیں لوگوں کی نالائقی اور لالچ کی وجہ سے در حقیقت اسلام کا بنیادی سیاسی نظام نافذ نہیں ہو سکا۔
حالات یہاں تک بگڑ گئے کہ مغرب کی سوچ کہ اسلام کو حکومتی معاملات سے علیحدہ کر کے ایک سیکولر معاشرے کو تشکیل دیا جائے۔اور اب یہ ہی بات ہمارے بھی اکثر لوگوں کے دل و دماغ میں گھر کر گئی اور یہاں تک پرچار ہوا کہ مغرب میں اسلامی عبادات پرکوئی پابندی نہیں بلکہ برطانیہ کی جیلوں تک میں قید مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ با جماعت نماز ادا کریں ۔
میں اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ قصوروار اپنے آپ کو اور ان تمام لوگوں کو جو پڑھے لکھے ہیں اور دنیاوی وسائل کے پیچھے بھاگتے ہوے زندگی گزار رہے ہیں کو سمجھتا ہوں۔ ہم نے اس اہم ترین فریضہ کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔
ہم نے دین کو بس چند عبادات کا مجموعہ سمجھ لیا اور مذھب اور دین کا فرق بتانے سے قاصر رہے۔
ہم لوگوں کو یہ بتا ہی نہیں سکے کہ جن چند چیزوں پر ہمیں تقسیم کر دیا گیا ہے یہ تو دین کا صرف ایک اہم جزو یے۔
مغرب اور ان کے دلدادہ لوگوں نے ہم پر کچھ نام نہاد قسم کے علماء کو بھی مسلط کر دیا اور ان کی بھرپور کوشش بھی یہی رہی کہ عوام کو دین اسلام کی بنیادی روح سے ہی دور رکھا جائے ۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ وقت آ گیا ہے جب معاشرے کے اندر عدل کو قائم کیا جائے اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہر ایک چیز کو قرینے سے اس کی اصل جگہ پر رکھا جائے ۔
در حقیقت ایمان اتحاد تنظیم کا اصل منشور یہی ہے کہ ایک ایسی اسلامی فلاحی مملکت قائم کی جائے جس میں کم از کم زندگی کی بنیادی سہولیات سب کو برابر اور بہم پہنچائی جا سکیں ۔ معاشرتی تفریق کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب کسی ایک گروہ کی مذھب پر اجارہ داری ختم کی جائے کیونکہ مذھب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہدائت اپنے پاس رکھی جسے چاہے دے اور جسے چاہے نہ دے۔ نماز قائم کرنے کا حکم ہے جس کے معنی دین کو قائم کرنے کے ہیں۔
تمام معاملات میں فیصلہ اللہ کے بنائے ہوے قوانین کے مطابق ہی ہونا ہے اور یہی پاکستان کا آئین اور دستور بھی کہتا ہے ۔ کچھ لوگوں کے ذاتی مسائل کا اس طرح پرچار صرف لوگوں کو متنفر اور دین سے دور لے جانے کا باعث بنتا ہے۔کیونکہ مذہب کے نام پر ٹھیکیدار ہی انتشار کے زمہ دار ہیں؟

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)