والدین اور اساتذہ کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے کہ پنجاب گورنمنٹ نے محکمہ تعلیم کو نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے کہ تمام پرائیویٹ سکولوں اور کیمپسز میں پیرینٹ کونسلز کا قیام فوری طور پر عمل میں لایا جائے۔ اس سے پہلے اسی کیس کے سلسلے کی کڑی میں شکایت سیلز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
ہر سکول کونسل کے سات ممبران ہوں گے جن میں تین ممبران والدین جمہوری طریقے سے چنیں گے۔ دو ممبران اساتذہ میں سے ہوں گے جنہیں اساتذہ خود چنیں گے۔ ایک ممبر سکول مالک یا پرنسپل ہو گا۔ اور ایک ممبر محکمہ تعلیم سول سوسائٹی سے چنے گا۔ والدین اور اساتذہ کے تمام مسائل اس کونسل کے آگے پیش کیے جائیں گے اور اپنی ماہانہ میٹنگ میں کونسل انکا جائزہ لے گی اور فیصلہ کرے گی۔
پیرینٹ کونسل اپنی سفارشات سی ای او کو بھی پیش کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق ایک ریگولیٹری اتھارٹی بننے کا ڈرافٹ جلد ہی پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے۔ والدین کا مطالبہ ہے کہ پیرینٹ کونسل کو اس ڈرافٹ کا حصہ بنایا جائے۔
یہ سکول کونسلز اب دنیا بھر میں تعلیم کے میدان میں تعلیم کا معیار بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ کونسلز بھی تقریبا 9 ممالک جن میں بھارت بھی شامل ہے کا مطالعہ کرنے کے بعد ترتیب دی گئی ہیں۔ اور اس ڈرافٹ کے بننے میں کچھ والدین نے اہم رول ادا کیا۔ اس کے علاوہ ایک سمری بھی تیار کی گئی جس میں ان ممالک میں تعلیم کے معیار بڑھنے کا ذکر تھا۔
والدین یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس نوٹیفیکیشن پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ والدین اور اساتذہ کے مسائل سکول کے اندر ہی حل ہو سکیں۔ اور تعلئم کا معیار بہتر ہو۔
یاد رہے کہ سکولز کس طرح بچوں کو ہراساں اور والدین کو لوٹ رہے ہیں۔ خاص طور پر وہ والدین لیڈر جنہوں نے اس جدو جہد میں حصہ لیا اور اب سکول انتقامی کاررواییوں میں انکے بچوں کو ہراساں کر رہے ہیں اور نکال رہے ہیں۔
ڈاکٹر ماہم ایک پیرینٹ لیڈر کے معصوم بچے تین ماہ پہلے سکول نے نکالے تھے اور سکول اور محکمہ تعلیم کی شرمناک ملی بھگت سے ابھی تک سکول واپس نہیں جا سکے۔ سکول کو ہراسمنٹ ثابت ہونے پر چھ لاکھ جرمانہ ہو چکا ہے۔ انہیں بچوں کے واوچرز جاری کرنے کا حکم ہوا ہے۔ مگر نہ تو سکول نے واوچر جاری کیے نہ جرمانہ ادا کیا اور محکمہ تعلیم خاموش بیٹھا ہے۔
اسکے علاوہ بھی دیگر بڑے سکولوں نے بچوں کو نکالا اور ہراسمنٹ کی۔ ان میں امبر چوہدری کے بچے کو بیکن ہاوس نے ہراساں کیا ۔ کاشف اسماعیل کے بچوں کو سٹی سکول نے ہراساں کیا اور نکالا۔ سٹی سکول نے جون 2018 میں قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے 1200 بچوں کو نکالا اور والدین سے غیر قانونی فیسیں بٹوریں۔ سٹی سکول اس وقت بھی بچوں اور کھڑے ہونے والے والدین کو انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے ۔ لکاس نے تقریبا 60 بچوں کو لائبریریوں میں اسی پاداش میں ٹھونسا۔ لکاس پر FIR درج ہو چکی ہے۔ راولپنڈی میں سلور آکس نے متعدد بچوں کو فیسوں کے ایشو پر ہراسمنٹ کا نشانہ بنایا۔
مگر لاہور کے محکمہ تعلیم نے ان انتقامی کاررواییوں پر کسی سکول کے خلاف کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا۔ والدین کو ہر دفتر سے مایوسی ملی۔
او لیول اور اے لیول کے امتحانات دینے والے بچوں سے تین سے چار ماہ کی غیر قانونی فیسیں لی گئیں ہیں اور یہ کروڑوں روپے لینے میں محکمہ تعلیم نے سکولوں کا پورا ساتھ دیا ہے اور کھلی چھوٹ دی۔
یہی وجہ ہے کہ والدین چاہتے ہیں کہ جلد از جلد پیرینٹ کونسلز قیام پذیر ہوں اور یہ ظلم اور زیادتیاں ختم ہو سکیں۔
ان احکامات کو لاگو کروانے کے لیے والدین بہت پرجوش ہیں اور ڈاکٹر ماہم کے بچوں کو سکول واپس بھیجنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اس بات کا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔

This post has been Liked 0 time(s) & Disliked 0 time(s)